جمعہ 29 مئی 2026 - 19:54
خطے میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں بدل چکا: امام جمعہ تہران

حوزہ/ حجت الاسلام ابو ترابی فرد نے حالیہ جارحیت پر سپاہ کی فضائیہ کے فیصلہ کن جواب کے بعد امریکیوں کے غیر فعال مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے جنگ رمضان میں اس حقیقت کو اچھی طرح سے درک کر لیا ہے کہ امریکہ مغربی ایشیاء کے علاقے میں اپنی موجودگی کی طاقت کو مکمل طور پر کھو چکا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تہران حجت الاسلام والمسلمین ابو ترابی فرد نے نمازِ جمعہ کے خطبوں میں عید قربان و عید غدیر اور ہفتہ وحدت کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انبیائے الٰہی کو انسان کی تعلیم و تربیت اور ایک عظیم معاشرے کو وجود میں لانے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔

انہوں نے غدیر خم میں پیغمبرِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غدیر کے دن خدا کا ارادہ یہ تھا کہ امامت اور امت کی قیادت کا معاملہ معصوم پیشواؤں کو سونپ دیا جائے۔

امام جمعہ تہران نے پیغمبرِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے اہل بیت علیہم السّلام کے بلند مقام پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی انسان یا فرشتہ پیغمبرِ اکرم (ص) کے اہل بیت سے قابلِ موازنہ نہیں ہے، یہ (پیغمبر و آل پیغمبر) دین کی بنیاد اور یقین کا ستون ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین ابو ترابی فرد نے اپنے دوسرے خطبے میں بندر عباس ہوائی اڈے کے مضافات میں امریکی حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ جمعرات کو صبح کے وقت بندر عباس ہوائی اڈے کے مضافات میں ایک مقام پر حملہ کیا جس سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ ایران کے آسمانوں اور زمین پر حملہ تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جمعرات کی صبح، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی طاقتور فضائی افواج کے ہاتھوں ایک سخت اور دندان شکن جواب دیا گیا؛ اس میں ایک واضح پیغام ہے، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمتی طاقت کو بڑھانا اور طاقت کے توازن کو ایران کے حق میں تبدیل کرنا۔

امام جمعہ تہران نے مزید کہا کہ اس طاقت کو سرحد پر منتقل ہونا چاہیے؛ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم علم و ٹیکنالوجی کی سرحد اور دفاعی طاقت کی سرحد پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی طاقت نے ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں ہم نے امریکہ کو رسوا کیا ہے۔ آج دنیا صرف ایک ہی زبان سنتی ہے اور وہ طاقت کی زبان ہے۔

انہوں نے لبنان کے دارالحکومت کے جنوب، مشرق اور مضافات پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بڑی تعداد میں معزز لبنانی عوام کی شہادت اور زخمی ہونے، لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہونے اور بنیادی ڈھانچے اور لوگوں کے گھروں کی تباہی کا باعث بنے ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین ابو ترابی فرد نے مزید کہا کہ یہ جرائم امریکی حکمراں ادارے کی مکمل اور غیر مشروط حمایت اور واشنگٹن کے ہتھیاروں، سیاسی اور اقتصادی حمایت سے انجام پا رہے ہیں۔

امام جمعہ تہران واضح کیا کہ آج خطے میں رونما ہونے والی پیشرفت کے ساتھ، صیہونی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی ہر گولی امریکہ پر گرتی ہے اس سے پہلے کہ وہ لبنان اور غزہ کے قابلِ فخر عوام کا مقابلہ کرے، جو صبر و استقامت کی داستانیں ہیں۔

انہوں نے ایک ممتاز امریکی پروفیسر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائل اور ڈرونز جنہوں نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس نے مقبوضہ علاقوں میں ہتھیاروں اور فوجی مراکز اور مطلوبہ اہداف کو کیا نقصان پہنچایا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین ابو ترابی فرد نے کہا کہ جنگ رمضان سے امریکی اور صیہونی حکومت اس حقیقت کو اچھی طرح درک کر چکی ہیں کہ فوجی طاقت حتی کہ امریکہ کی براہِ راست موجودگی بھی مغربی ایشیاء میں عمومی طور پر سیاسی حقائق کو دوبارہ ترتیب دینے کی طاقت کھو چکی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی موجودگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha